ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سدرشن ٹی وی کے شوپر ہائی کورٹ نے لگائی روک، جامعہ طلبا کی عرضی پر عدالت کی کارروائی 

سدرشن ٹی وی کے شوپر ہائی کورٹ نے لگائی روک، جامعہ طلبا کی عرضی پر عدالت کی کارروائی 

Fri, 28 Aug 2020 23:00:09    S.O. News Service

نئی دہلی 28/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) صحافت کی آڑ میں ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے سد رشن نیوز کے ایڈیٹر سریش چوہانکے  کو دہلی ہائی کورٹ سے ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ 

سریش چوہانکے 28/ اگست سے رات 8 بجے ’بیورو کریسی جہاد‘ کے نام سے ایک پروگرام نشرکرنے والے  تھے، لیکن دہلی ہائی کورٹ نے اس کے نشر پر روک لگادی ہے۔ 

جسٹس نوین چاؤلہ نے یہ آرڈر جاری کیا ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی جانب سے عدالت میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ گزشتہ 3دنوں سے سریش چوہانکے کا ایک ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل ہورہا ہے، جس میں وہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی دراندازی کا الزام لگاتے ہوئے اسے نوکر شاہی جہاد کا نام دہے رہے ہیں۔ 

حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس ٹوئٹ میں انہوں نے یہ ویڈیو جاری کیا ہے، اس میں ملک کے وزیر اعظم اور آر ایس ایس سربراہ کو بھی ٹیگ کیا ہے۔ ویسے مبینہ طور پر نفرت پھیلانے اور مسلم مخالف ایسی ہی خبروں کے لئے اکثر سدرشن نیوز اور سریش چوہانکے پر الزام لگتے رہے ہیں۔ یوپی میں کملیش تیواری قتل معاملے میں اسدالدین اویسی کے خلاف خبر کا معاملہ ہو یا پھر یو پی پولیس کے خلاف مسجد کے متعلق غلط خبر دینے کا، ان کی ایسی خبریں اکثر غلط ثابت ہوئی ہیں۔ 

فرضی نیوز کو اجاگر کرنے والی معتبر ویب سائٹ آلٹ نیوز نے 2019میں اس سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ رپورٹ میں سدرشن نیوز کی کئی خبروں کو فرضی بتایا گیا تھا۔ آلٹ نیوز کے مطابق سدرشن نیوز نے یکم جولائی 2019 کے نشر کے دوران ایک ویڈیو چلایا تھا، جس میں ہاتھ میں تلوار لیے لوگ آر ایس ایس کارکنان کو مارنے کے نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ آلٹ نیوز نے پایا کہ پرانی ویڈیو کو ایڈٹ کر کے آر ایس ایس کارکنان کے قتل کرنے کے نعروں کے ساتھ اسے جوڑ دیا گیا تھا۔ 


Share: